55

بعداز مرگ اعضا عطیہ کرنے والے کئی جانیں بچاتے ہیں، مقررین

کراچی: ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بعداز مرگ اعضا عطیہ کرنے والے کئی جانیں بچاتے ہیں۔

ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستان نارتھ امریکا اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے باہمی اشتراک سے پہلی گلوبل ہیلتھ کئیر سَمِٹ کے آخری دن ’’بعد ازمرگ عطیہ اعضا ‘‘ کی اہمیت کے ساتھ موجود عوامل اور دشواریوں پر روشنی ڈالنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پروفیسرز، ڈاکٹرز اور دیگر نے شرکت کی۔

اس موقع پر ایس آئی یو ٹی کے پروفیسر انورنقوی نے اعضا ناکارہ ہونے کے باعث انتقال کرنے والوں کے حوالے سے کہا کہ قیمتی انسانی جانیں بچانا ممکن ہے جوکہ بعد از مرگ اعضا عطیہ پروگرام پر عمل درآمد کرنے سے ہو سکتا ہے، انھوں نے 5 اہم عوامل کا ذکر بھی کیا جس میں گورنمنٹ، علما ، میڈیا، معاشرے میں آگہی اور طبی پیشہ ور شامل ہیں، انھوں نے کہا کہ ان عوامل کی باہمی کوششوں سے مریضوں کی بڑی تعداد کو زندگی مل سکتی ہے،بعد ازمرگ اعضا عطیہ کرنے والے کئی جانیں بچاتے ہیں۔

انھوں نے بعد از مرگ پروگرام کے بین الاقوامی اعداد وشمار بھی پیش کیے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں ہے جبکہ اسپین اور کروشیا کا شمار کامیاب ترین ممالک میں ہوتا ہے جبکہ اس میں 5 اسلامی ممالک کے نام شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ نہ صرف لوگوں میں آگہی اور تحریک بیدار کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس کے ساتھ اسپتال اور ان کے مقرر کردہ ٹرانپسلانٹ کوآرڈینیٹر کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

ورکشاپ سے ایس آئی یو ٹی کے پروفیسر مرزا نقی ظفر نے بھی خطاب کیا اور شرکا کو لا اور جسٹس کمیشن کی جانب سے کئے گئے قانونی اقدامات سے آگاہ کیا،انھوں نے عطیہ اعضا پروگرام کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں قانونی اقدامات کا ذکر کیا جس میں ڈرائیونگ لائسنس اور قومی شناختی کارڈ میں عطیہ اعضا کی خواہش اور سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کو اس بات کو پابند کرنا کہ وہ تمام دماغی اموات کو 6 گھنٹوں کے اندر رپورٹ کرنا شامل ہے۔

ایس آئی یو ٹی کے ڈاکٹر ناصر حسن، ڈاکٹر فرینہ حنیف اور ڈاکٹر سعدیہ نشاط نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے دماغی موت اور عطیہ اعضا کے بارے میں میڈیا اورعوامی آگہی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

علاوہ ازیں دن بھر پر محیط ورکشاپس میں کارڈیالوجی، فالج، گائنی کے موضوعات شامل تھے، کانفرنس کے اختتام پر شرکانے سوال و جواب کی نشست میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

واضح رہے کہ کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے نظام صحت اور اس سے متعلقہ طبی تعلیم میں بہتری لانا اور دونوں اداروں کے باہمی رابطوں کو استوار کرنا تھا۔

The post بعداز مرگ اعضا عطیہ کرنے والے کئی جانیں بچاتے ہیں، مقررین appeared first on ایکسپریس اردو.



Source link

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

5 تبصرے “بعداز مرگ اعضا عطیہ کرنے والے کئی جانیں بچاتے ہیں، مقررین

اپنا تبصرہ بھیجیں