23

ایک قرض اور سہی

ہم بحیثیت قوم ایک نئے سفر کو نکل پڑے ہیں، یوں تو اس سفر کی بنیادیں ہماری تاریخ میں ہیں۔ جب بحیثیت ملک ہم نے دنیا کے افق پر آنکھ کھولی تھی یا شاید ہماری اس تاریخ میں بھی ہوں جو ہم نے انگریز سامراج کے تسلط تلے بنائی تھی۔

ہم نے جو غلامی انگریزوں سے پائی وہ ہمارے لاشعور میں رچ بس گئی تھی۔ ہمیں موقع ملا تھا جب نوید آزادی نے ہماری دہلیز پر دستک دی تھی۔ یا شاید وہ کچے گھڑے کے مانند تھی جو نوید آزادی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے تھے ہم کیا کرتے کبھی ادھر کہا جاؤ، ہم چل پڑے، کبھی کہا ادھرجاؤ ہم ادھر ہی چل پڑے۔ کبھی CENTO تو کبھی سیٹو۔ ہم گرم حماموں کے استعارے میں رہتے رہے اور جن کے ہاتھ میں ہماری انگلی تھی وہ رفوچکر ہوگئے۔

اور اب جو نیا سفر شروع ہوا تو کچھ یونہی ہے:

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا، تو میں نے دیکھا

(منیر نیازی)

یہ وہ سفر تھا جو اب تک ہم نے طے کیا۔ امداد کا سفر۔ جب جنرل ایوب نے اسکندر مرزا سے مارشل لاء لگوا دیا یہ کہہ کر کہ فوج اس کے ساتھ کھڑی ہے ٹھیک بیس دنوں بعد اسکندر مرزا کو رخصت کرنے کے لیے جس جہاز میں پنڈی سے کراچی کا سفر کیا تھا وہ کسی اور نے نہیں اسوقت پاکستان میں تعینات امریکی سفیر نے دیا تھا۔ پچاس کی دہائی میں بڑے بڑے نشیب و فراز آئے کئی وزیراعظم آئے اور چلے گئے، نہ گئی مگر پاک امریکا دوستی کی لازوال مثال!!! بہت کچھ آیا فورڈ ٹرکسں آئے، جن کو ہم نے اپنے تانگے والے رنگ چڑھادیئے اور انگریز کی دی ہوئی ریل گاڑی کی حیثیت ثانوی ٹھہرگئی۔

ہم نے راستوں پر توجہ دی پٹڑی پر نہیں کیوں کہ فورڈ ٹرک پٹڑی پر نہیں راستے پر چلتے تھے۔ ورلڈ بینک کے پروجیکٹ پر اوباما اپنی ماں کے ساتھ پاکستان آئے تھے اور افغانستان میں جہادیوں کو ڈالرز بھی دیئے اور اسلحہ بھی، جو اوجھڑی کیمپ کے دھما کے میں اڑایا گیا جس میں سیکڑوں جانیں بشمول ہمارے سابق وزیراعظم کے والد اور بھائی کے۔

جب برطانیہ سپر پاور تھا تو ہم اس کی ’’بیٹھکیت‘‘ تھے اور جب امریکا سپر پاور بنا تو ہم ان کے نیم یبٹھکیت ۔ یعنی پہلا سامراج خود حاکم تھا اور پھر سامراج کے مفادات کو اولیت دینے والے ہم ان کے مفادات کے نگہبان اور امین ۔پاکستان ٹرسٹ تھا، جس کا de jure Beneficiary  اس کا عوام تھے مگر De facto Beneficiary امریکا ۔ پہلے وہ افواج رکھتے تھے اب وہ امداد کے بہانے مقروض کرتے ہیں اور اسی طرح آج کے نئے ابھرتے imperial  power بھی یہی کریں گے۔

ہمیں سمجھ تو تھی مگر مینڈیٹ نہ تھا۔ اس نظام پر جو انگریزوں نے بنایا تھا اس پر لوگوں کے حقوق تھے جو پورے نہ ہو سکے یہی وجہ ہے کہ لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہیں، بھوک اور افلاس سے تھکے ہوئے ہیں اور بہتر معیار زندگی کی کوئی امید بھی نہیں۔۔ ڈیرے تھے، مزارعے تھے، تمندار، رائے بہادر، خان بہادر، پٹواری اور کلیکٹر سب تھے۔ بھٹو اتنے بڑے عوامی لیڈر تھے لیکن ان کے پیچھے بھی انھی چودھریوں، نوابوں اور وڈیروں کا ہاتھ تھا۔ جو اس صدی میں پہنچتے پہنچتے مضبوط اور تناور درخت بن چکے ہیں جن کو آج ہم الیکٹیبلز کہتے ہیں اور یہی حال باقی جمہوری لیڈروں کا بھی، نہ نہ کرتے ہوئے بل آخر عمران خان بھی اسی راہ پر چل پڑے۔ پورا ساؤتھ پنجاب لوٹ لیا۔

جب چارلس نیپیر نے سندھ کو فتح کیا تو ٹالپروں کے زیر اثر پلی ہوئی اشرافیہ کو ختم کیا اور کانگریس نے ہندوستان میں انگریزوں کی بنائی ہوئی شرفائی باقیات سے بھی نجات پائی۔ لیکن ہم یہ کام نہ کر سکے۔ آزادی کی نوید تو سنائی دی لیکن وہی اشرافیہ تھی جو ہماری جیبوں میں کھوٹے سکوں کی طرح بج رہی تھی۔

چپک رہا بدن پر لہو سے پیراہن

ہماری جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے

ہم نے لوگوں میں سرمایہ کاری نہیں کی۔ ہماری معشیت سات فیصد شرح نمو پے ایک پائی بھی نہ بڑھی۔ 1990ء کی دہائی سے چین نے اپنی شرح نمو دس فیصد سے زیادہ مسلسل تیس سال تک بڑھائی، ہندوستان نے اپنی شرح نمو پچیس سال کی مدت میں سات فیصد تک بڑھائی مگر ہم ایسا کچھ نہ کر سکے۔ ہم قرضوں پر قرضے لیتے گئے لیکن ان کا صحیح استعمال نہ کر سکے اور یوں مقروض ہوتے رہے۔ ہم اپنے لوگوں کی حساسیت کو سمجھ نہ سکے ان کے غم ہمارے نہ تھے اور ہم ان میں سے تھے بھی نہیں۔

بلوچوں نے اپنی دھن بنائی، سندھیوں و پختونوں نے بھی یہی کیا اور باقی پاکستان کا بیانیہ ٹھہرا اور ہمیں پتہ بھی نہ چلا کہ ہمارے بیانیہ نے بھی وہی کام کیا جو انھوں نے کیا تھا جن کے ہاتھ میں ہماری انگلی تھی کیوں کہ یہ بیانیہ ہمارا تھا ہی نہیں یہ تو ہم نے امپورٹ کیا تھا۔

افغانستان (خراساں) فارسی، ایران، بغداد اور عربوں کے قدیم ہیروز سے۔ اور جو یہا ں کے ہیروز تھے جیسے ہوشو شیدی، ہیموں کالانی، سورھیہ بادشاہ وغیرہ جو ہم نے وفاقی اکائیوں کے قوم پرستوں کے حوالے کر دیے۔ میں جب ساتھی بارڑا سنگت سندھ کا مرکزی صدر تھا کہ جب ہم نے’’موئن جو دڑو بچاؤــــــــ ـــــ‘‘ کے لیے موہن جو دڑو پے عالمی کانفرنس منعقد کی تھی تو ہمیں دو محاذوں کا سامنہ تھا۔

ایک وہ قوم پرست جو سرخوں کو برداشت نہ کرتے تھے، جن کا ’’ٹھوڑی پھاٹک‘‘ کے سانحہ سے تعلق تھا اور وہ ہمارے پروگرام میں شرکت کے لیے آ رہے تھے اور دوسری طرف اسداللہ بھٹو صاحب تھے سکھر کے مشہور مذہبی عالم جنہوں نے ہماری اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی (جنرل ضیاء الحق کے بہت قریب تھے) پھرمجبورأ آخری وقت میں ہمیں اس کانفرنس کو کینسل کرنا پڑا۔ وہ سب کیا تھا لیکن جو کچھ بھی ہے اب آؤ کہ اپنی تاریخ کے طرف لوٹ چلیں۔ وادی مہران کی تہذیب کو پھرسے جوڑیں۔

ہم نے وادی مہران کی تاریخ کو بے دام کر کے ہندوستان کو بیچ دیا۔ آج ہماری سمبارا ان کے میوزیم میں بے چین پڑی ہے اور میرے ہی ہیرو بھگت سنگھ پر وہ فلمیں بناتے ہیں۔ منٹو کو بھی وہ یاد رکھتے ہیں۔ چلو اچھا ہوا اس بار کرتار سنگھ کسی نہ کسی بہانے چلے ہی گئے اور ایک دن ایسا آئیگا ہم اپنی وادی مہران کی تہذیب سے بھی اپنے آپ کو جوڑیں گے۔

ماٹی کہے کمبہار سے تو کیا گوئے موئے

ایک دن ایسا آئیگا میں گوندوں گی توئے

(کبیر)

اب ہم مقروض ہو گئے، ہمارے دوست ہمیں قرضہ تو دیتے ہیں لیکن قرضہ تو ہمیں واپس کرنا ہو گا۔ کیسے ہونگے یہ واپس کچھ خبر نہیں۔ سعودی عرب ہمیں قرضے دیے جا رہا ہے بھلے وہ تیل کے ادھار پے ہوں لیکن ہے تو ادہار ہی۔ چین بھی ہمیں قرض دے رہا ہے اور یو اے ای بھی۔ آئی ایم ایف سے ہمیں پیسے نہیں مل رہے کیونکہ ان کی شرائط ہمارے لیے ایک بڑا المیہ ہے کیا پتہ جس طرح سری لنکا نے اپنا پورٹ چین کو لیز پر دے دیا اور نائیجیریا نے بھی، ہمیں بھی گوادر نہ د ینا پڑ جائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو پیسہ ہمیں عربوں سے مل رہا ہے کل ان کے بدلے ان کے فوجی مفادات میں ہمیں ہاتھ نہ بڑہانے پڑ جائیں۔ یہی ہمارا نیا سفر ہے اور مانجھی اناڑی ہے خدا خیر کرے!!! اسمبلی میں الیکٹیبلز، پورا نظام کرپٹ، محب وطن کی تشریح وہی پرانی گھسی پٹی۔ یہ بات الگ ہے کہ حالات ہمیں بہت کچھ سکھائیں گے بس ڈر اس بات کا ہے کہیں دیر نہ ہو جائے۔

جب ہنر نہیں ہوتا تو اثاثے نہیں بنتے پھر قرضوں کی نوبت آتی ہے جب قر ضے بڑھ جاتے ہیں تو اثاثوں کی نیلامی ہوتی ہے ان قرضوں کے پیچھے اور کچھ نہیں ہمارے قومی اثاثے ہیں۔

’’ایک قرض اتارنے کے لیے ایک قرض اور سہی‘‘۔

The post ایک قرض اور سہی appeared first on ایکسپریس اردو.



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں