23

سندھ: ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام ناگزیر

اس وقت ملکی سیاست کا محور سندھ ہے، وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیراطلاعات نے اپنے دورہ سندھ کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ وزیراعظم کے دورے سے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں کشیدگی بڑھنے کے امکانات واضح آثار نظر آرہے ہیں ۔ گزشتہ ماہ جب سندھ میں حکومت کی تبدیلی یا گورنر راج کی افواہیں گرم تھیں، تو فواد چوہدری دورہ سندھ کے لیے پر تول رہے تھے ، تاہم اسی روز چیف جسٹس کے ریمارکس کے بعد یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا تھا ۔ بقول وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ’’کوئی فساد پھیلانے سندھ میں آئے گا توآہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، جب تک پارٹی قیادت اور عوام چاہیں گے، سندھ حکومت قائم رہے گی اور میں وزیراعلیٰ رہوں گا ‘‘ سیاسی جوڑ توڑ، اختلاف رائے اور تنقید یہ سب جمہوریت کا حسن ہیں۔

پیپلز پارٹی سندھ کی واحد اکثریتی پارٹی ہے، اگر پی ٹی آئی تبدیلی چاہتی ہے تو وہ صوبائی اسمبلی میں ان ہاؤس تحریک عدم اعتماد کی صورت آئینی طور پر لاسکتی ہے، بشرطیکہ وہ نمبرزگیم جیت سکے، لیکن دوسرا کوئی بھی راستہ جمہوریت کو نقصان پہنچائے گا۔ایک طرف تو موسم سرد ہے تو دوسری جانب سیاسی بیانات نے ماحول میں خاصی گرمی پیدا کردی ہے ۔ جمہوریت ایک بہترین طرز حکومت ہے، لہذا تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے منشور میں درج وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی تمام تر توانائیاں غربت،بے روزگاری، تعلیم اورروزگارکی فراہمی پر صرف کرنی چاہیے، سندھ اور کراچی کے مسائل بے شمار ہے۔ میگاسٹی کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ نامی چیز نایاب ہوچکی ہے، وفاق اورسندھ کو مل کر عوامی مسائل کو حل کرنا چاہیے ، سیاسی چپلقش اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا خراب طرز عمل ہے۔جمہوریت دراصل ایک دوسرے کے مینڈیٹ کے احترام کا نام ہے۔

The post سندھ: ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام ناگزیر appeared first on ایکسپریس اردو.



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں