21

’’ سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا ‘‘

نئے سال کے آغاز میں پاکستان تحریک انصاف کی نئی حکومت کی جانب سے دو اچھی خبریں سننے کو ملی  ہیں ۔ پہلی خبر یہ کہ 75سال کی عمر کو پہنچنے والے بزرگ شہریوں کو پاکستان ریلوے کی جانب سے مفت سفر کی سہولت حاصل ہوگی۔ بلاشبہ نئی حکومت کی جانب سے بزرگ شہریوں کے لیے کیا جانے والا یہ ایک انتہائی مستحسن اقدام ہے۔ اِسے بزرگ شہریوں کے لیے نئی حکومت کی جانب سے نئے سال کا تحفہ کہا جائے تو شاید کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بزرگ شہریوں کو یہ سہولت فراہم کرکے بزرگ نوازی کی مثال قائم کی ہے۔ افسوس کہ اس سے پہلے پاکستان کی کسی بھی حکومت کو بزرگوں کی خدمت اور احترام کی ایسی مثال قائم کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

اس میں وہ حکومت بھی شامل ہے جو بزعمِ خود عوامی حکومت کہلانے کی دعویدار ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ جب مسلم لیگ (ن) کی پہلی حکومت ملک میں برسرِاقتدار آئی تھی تو اُس نے دارالحکومت اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا تھا مگر اس اجلاس کے بعد مزید کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور معاملہ رات گئی، بات گئی کے مصداق ہمیشہ کے لیے فراموش کردیا گیا۔ اس کے بعد قدرت نے مسلم لیگ (ن) کو حکمرانی کا ایک طویل دور عطا کیا لیکن اُس کی حکومت کو بزرگ شہریوں کا ذرا بھی خیال نہ آیا اور اُس نے بزرگ شہریوں کو بالکل نظر انداز کردیا۔ شاید یہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) بزرگ شہریوں کی دعاؤں سے محروم ہوگئی جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اس حقیقت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے کہ بزرگ ہمارے معاشرے کا سب سے اہم اور لائق احترام جزو ہیں۔ ہمارا دین بھی بزرگوں کے انتہائی احترام کی تلقین کرتا ہے حتیٰ کہ بزرگوں کی غلطی نکالنا بھی غیر اخلاقی حرکت تصور کیاگیا ہے۔ اس حوالے سے فارسی زبان کا درجہ ذیل مصرعہ ایک ضرب المثل ہے:

خطائے بزرگاں گرفتن خطاست

ہمارا مشاہدہ ہے کہ بزرگوں کے احترام کے نتیجے میں عزت اور کامیابی میسر آتی ہے جب کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ذلت اور خواری انسان کا مقدر بنتی ہے۔

نئے سال کے آغاز میں ملک کی نئی حکومت نے ایک اور نیا اور لائقِ تحسین اقدام کیا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے ایک نوٹیفکیشن کے تحت سرکاری دفاتر میں نماز ظہر کے لیے آدھے گھنٹے اور نماز جمعہ کے لیے سوا دو گھنٹے کا وقفہ کیا جائے گا۔ حکومت کا یہ اقدام شاعرِ مشرق علاّمہ اقبال کے درجہ ذیل شعر کی یاد تازہ کرتا ہے:

آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز

قبلہ رو ہوکے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز

وطن عزیز پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور نماز کی ادائیگی کا اہتمام ہر عاقل، بالغ اور صحت مند مسلمان کے لیے لازم ہے۔ وزارت داخلہ کا یہ قابلِ تعریف اقدام شعائر اسلام کی اہمیت اور عظمت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے چنانچہ پاکستان کے باشعور عوام کی جانب سے موجودہ حکومت کے اس فیصلے کی بڑی پذیرائی کی جارہی ہے اور اِسے ریاستِ پاکستان کو ریاستِ مدینہ کے سانچے میں ڈھالنے کی وزیراعظم کی دلی خواہش کی تکمیل کی جانب ایک مستحسن اقدام قرار دیا جارہا ہے۔

حکومت کو اپنے اس مستحسن فیصلے کے بعد جمعے کی ہفتہ وار تعطیل کی بحالی پر بھی توجہ دینی چاہیے ۔ ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھتا ہوا اخلاقی اور فکری بگاڑ اس بات کا متقاضی ہے کہ اربابِ اقتدار ملک کے نظریاتی تشخص اور دینی تعلیمات کے احیاء اور فروغ کے لیے بھی دلی دلچسپی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور علمائے کرام سے اس بارے میں مطلوبہ رہنمائی حاصل کریں۔ انشاء اﷲ ! حکومت کا ہر  اچھا مثبت اور مخلصانہ فیصلہ اس کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کا باعث ہوگا اور اس کے نتیجے میں اسے عوام میں زیادہ سے زیادہ مقبولیت اور حمایت حاصل ہوگی۔ ہم انگریزی کی اس کہاوت کے قائل ہیں کہ call a spade a spade یعنی جو بات بھی کہو بلا خوف و خطر بالکل کھری کہو۔ بقولِ شاعر:

ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں

عرض یہ ہے کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف کی نئی حکومت نے ملک کا اقتدار سنبھالا ہے تب سے تبدیلی کے دعوے کے باوجود ملک کے عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا ہے جب کہ مہنگائی کے عفریت نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ روز افزوں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی حرام کردی ہے۔ محدود آمدنی والے طبقے کے لیے عزت کے ساتھ گزر بسر کرنا مشکل سے مشکل تر ہورہا ہے۔ بجا کہ پی ٹی آئی حکومت کو بحران زدہ معیشت ورثہ میں ملی ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غریب اور مفلوک الحال عوام کی پشت پر مہنگائی کے کوڑے برسائے جاتے رہیں۔ بے شک حکومت نے کریشن کے خاتمے اور احتساب کے نام پر چوروں اور لٹیروں کے خلاف علم بلند کر رکھا ہے لیکن تاحال یہ مشق غیر جانبداری اور شفافیت کا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی۔

کیسا عجیب دوغلاپن ہے کہ ہمارے سیاست داں اور حکمراں جب ایوانِ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو عوامی مسائل اور پریشانیوں کے حق میں حکمرانِ وقت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ برسراقتدار آتے ہیں تو اپنے ماضی اور عوام سے کیے ہوئے وعدوں کو بھول جاتے ہیں اور بے چارے عوام کو ہر طرح کی کڑوی گولیاں نگلنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہمارے موجودہ وزیرخزانہ جوکبھی گزشتہ حکومت کے دور میں عائد کیے گئے ٹیکسوں کے ظالمانہ نفاذ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے سراپا احتجاج نظر آتے تھے۔

آج برسراقتدار آنے کے بعد ان ہی عوام دشمن اور فرسودہ اقدامات کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے وزیرخزانہ کا یہ کہنا کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں صرف امیروں کے لیے بڑھائی گئی ہیں، عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ 23 جنوری کو منی بجٹ کا اعلان کیا جانے والا ہے جس میں نئے ٹیکس لگائے جائیں گے، دریں اثناء دواؤں کی قیمت میں اضافہ کرکے حکومت نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ افسوس کہ ماضی کی حکومتوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے موجودہ حکومت بھی معاشی بحران کا تمام تر بوجھ عوام کے ناتواں کندھوں پر ڈالے چلی جارہی ہے۔ اس پر ہمیں ’’مرے پر سُو درّے‘‘ والی مشہور کہاوت یاد آرہی ہے۔ طرفہ تماشہ یہ کہ وفاقی وزارتوں کی تعداد میں کمی کرنے کے بجائے رفتہ رفتہ مزید اضافہ کیا جارہا ہے جس سے حکومتی اخراجات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے طرز عمل کے حوالے سے اپنے بارے میں عوامی تاثرات اور رائے عامہ معلوم کرنے کا اہتمام کرے۔

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق غائبانہ کیا

The post ’’ سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا ‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں